سٹی ایکسپریس نیوز
واشنگٹن، 27 اگست،2026: امریکی جیولوجیکل سروے (و ایس جی ایس) نے کہا ہے کہ نیپال میں آنے والے اچانک سیلاب (فلیش فلڈز) کی وجہ گلیشیئر کا گرنا تھا، نہ کہ 4.4 شدت کا زلزلہ جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا تھا۔
و ایس جی ایس نے کہا کہ طویل دورانیے کی زلزلے کی لہروں کے مزید تجزیے سے یہ ظاہر ہوا کہ یہ جھٹکے گلیشیئر کے گرنے اور ملبے کے بہاؤ کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے۔
بدھ کے روز تبت سے شروع ہونے والے ان سیلابوں نے نیپال کے اضلاع راسوا اور دھاڈنگ میں تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں 162 افراد ہلاک اور 750 لاپتہ ہو گئے؛ لاپتہ ہونے والوں میں 133 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔
و ایس جی ایس نے اس واقعے سے متعلق اپنی رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے کہا، "اس واقعے کو ابتدائی طور پر 4.4 شدت کا زلزلہ قرار دیا گیا تھا۔ قریبی زلزلہ پیما مراکز، طویل دورانیے کی زلزلے کی لہروں اور سیٹلائٹ تصاویر کے مزید تجزیے سے یہ تعین ہوا کہ یہ دراصل گلیشیئر کے گرنے اور ملبے کے بہاؤ کا واقعہ تھا، اور کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا۔”
ادارے نے اس زلزلے جیسے واقعے کی شدت کو بھی پہلے بتائی گئی 4.4 کی سطح سے بڑھا کر 5.2 کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا، "و ایس جی ایس نے تعین کیا کہ یہ واقعہ گلیشیئر کے گرنے اور ملبے کے بہاؤ پر مبنی تھا جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔”
کینیڈا کی یونیورسٹی آف کیلگری میں جیو مورفولوجی (ارضیاتی ہیئت کے مطالعے) کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈینیئل شوگر نے کہا کہ یہ سیلاب ایک ایسے گلیشیئر کی وجہ سے آئے جو 5,200 میٹر کی بلندی پر واقع ایک چٹان سے نیچے گرا تھا۔
شوگر نے منگل اور بدھ (نیپال میں قدرتی آفت آنے سے ایک دن پہلے اور اس دن) لی گئی اس خطے کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کیا۔
‘نیو سائنٹسٹ’ میگزین نے شوگر کے حوالے سے کہا، "کل اور آج کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے پر ایسا لگتا ہے کہ آس پاس کے گلیشیئرز کی کافی مقدار میں برف پگھل کر ختم ہو گئی ہے۔”
انہوں نے کہا، "میرا اندازہ ہے کہ برف اور گلیشیئر کی یخ بستہ برف کے پگھلنے سے گلیشیئر کے اندر بڑی مقدار میں مائع پانی داخل ہوا، جو نیچے تہہ تک پہنچ گیا اور اسے پھسلن والا بنا دیا۔ یہ عمل گلیشیئر کے گرنے کے لیے کافی تھا۔”(ایجنسیاں)
