سٹی ایکسپریس نیوز
نئی دہلی، 14 ستمبر،2026: نئی دہلی کے ‘بھارت منڈپم’ میں بھارت کی میزبانی میں منعقدہ انتہائی کامیاب 18ویں برکس سربراہی کانفرنس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی وسیع سفارتی مصروفیات کو اجاگر کیا۔ ان مصروفیات میں جمعہ سے لے کر اتوار کی سہ پہر تک اجلاسوں سے خطاب کے علاوہ، دورہ کرنے والے سربراہانِ مملکت اور حکومتی عہدیداروں کے ساتھ 15 دو طرفہ ملاقاتیں شامل تھیں۔
قومی دارالحکومت میں ان گہری کثیر الجہتی مصروفیات اور اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیوں کے اختتام پر، عالمی رہنما اور اعلیٰ بین الاقوامی عہدیدار نئی دہلی سے روانہ ہوئے۔ روانہ ہونے والوں میں جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس، تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سیہاسک پھوانگکیٹکیو، فلپائن کے صدر فرڈینینڈ آر مارکوس جونیئر اور بیلاروس کے وزیر خارجہ میکسم ریزینکوف شامل تھے۔
مصروفیات کے اس بھرپور شیڈول میں برکس اجلاسوں کے ساتھ ساتھ ‘آؤٹ ریچ’ اور’برکس پلس ڈائیلاگ’ کے حصوں میں شرکت کرنے والے عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان کے ساتھ کئی ضمنی بات چیت بھی شامل تھیں۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے سفارتی شیڈول کا آغاز جمعہ کی سہ پہر ‘بھارت منڈپم’ میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ بات چیت سے کیا۔
اس کے بعد اسی شام ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں ہوئیں۔
ہفتہ کے روز، وزیر اعظم مودی نے ‘حیدرآباد ہاؤس’ میں ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد علی کی میزبانی اور ان کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کے ذریعے دن کی کارروائی کا آغاز کیا۔
اس کے بعد ہونے والی مشاورت میں ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم، ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان اور ویتنام کے وزیر اعظم لی منہ ہنگ شامل تھے۔
بعد ازاں، وزیر اعظم مودی نے باضابطہ کارروائی شروع ہونے سے قبل ‘بھارت منڈپم’ میں برکس رکن ممالک کے رہنماؤں کا خیرمقدم کیا۔
اس کے بعد وفود نے ‘شمولیتی عالمی طرزِ حکمرانی اور کثیر الجہتی نظام کو مضبوط بنانے’ کے موضوع پر ایک بند کمرے کے اجلاس میں شرکت کی، جس سے وزیر اعظم مودی نے خطاب کیا۔
بعد ازاں، وزیرِ اعظم نے برکس کے اپنے ہم منصبوں کے ہمراہ ‘بھارت انوویٹس’ نمائش کا مشاہدہ کیا، روایتی ‘فیملی فوٹو’ سیشن میں شرکت کی، اور بھارت منڈپم کے لان میں شجرکاری کی مشترکہ مہم میں حصہ لیا۔
وزیرِ اعظم کے دورے کے شیڈول کے مطابق، اس کے بعد چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک اہم دو طرفہ ملاقات ہوئی۔
دن بھر کی کارروائی کا اختتام اس وقت ہوا جب وزیرِ اعظم نے تقریب کے مقام پر آنے والے معزز مہمانوں کے اعزاز میں ایک شاندار عشائیہ دیا۔
اتوار کے روز، وزیرِ اعظم مودی نے برکس کے شراکت دار ممالک اور ‘آؤٹ ریچ’ کے تحت مدعو کیے گئے ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت کی، ‘فیملی فوٹو’ سیشن میں حصہ لیا، اور سربراہی اجلاس کے اس سیشن سے خطاب کیا جس کا موضوع ‘لچک، جدت، تعاون اور پائیداری: سب کو شامل کرنے والی عالمی ترقی کے لیے مستقبل کی تشکیل’ تھا۔
مسلسل دو طرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران وزیرِ اعظم مودی نے بھارت منڈپم میں قازقستان کے وزیرِ اعظم قاسم جومارت توکایف، فلپائن کے صدر فرڈینینڈ آر مارکوس جونیئر، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا، برونڈی کے صدر ایوارسٹ نداییشیمیے، نائجیریا کے نائب صدر کاشم شیٹیما اور یوگنڈا کی نائب صدر جیسیکا الوپو سے ملاقات کی۔
دو طرفہ ملاقاتوں کے دوران، وزیرِ اعظم نے برکس کے وسیع تر اجلاسوں میں شریک رہنماؤں اور اداروں کے سربراہان کے ساتھ اہم بات چیت اور مشاورت بھی کی۔ (ایجنسیاں)
