جموں، 2 نومبر,2026: جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے پیر کے روز کہا کہ 2025 میں ’دربار موو‘ کی بحالی حکومت کا ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے، جو عوام کی خواہشات اور امنگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر حکومت نے پیر کے روز ’دربار موو‘ کے تحت جموں سے اپنے کام کا دوبارہ آغاز کیا۔ یہ 154 سال پرانی انتظامی روایت ہے جسے 1872 میں ڈوگرہ حکمرانوں نے متعارف کرایا تھا۔ لیفٹیننٹ گورنر کی زیر قیادت انتظامیہ نے 2021 میں اس روایت کو ختم کر دیا تھا، جسے اب عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے اکتوبر 2025 میں بحال کر دیا ہے۔ جموں میں ’دربار موو‘ کے پہلے دن قانون ساز اسمبلی چیمبر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالرحیم راتھر نے کہا، “حکومت نے گہرے غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ’دربار موو‘ کو بحال کیا جائے۔ یہاں کے عوام یہی چاہتے تھے اور ہم ان کی خواہشات کا احترام کرتے ہیں۔” راتھر نے کہا کہ اس روایت میں کوئی نئی بات نہیں ہے؛ یہ کئی دہائیوں تک جاری رہی تھی، البتہ کچھ سالوں کے لیے اسے روک دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’دربار موو‘ کی بحالی عوام کی خواہشات کے عین مطابق ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ یہ دیرینہ روایت دونوں خطوں کے عوام کی خدمت کرتی رہے گی۔ راتھر نے اگلے سال کے اوائل میں متوقع بجٹ اجلاس کے خوش اسلوبی سے انعقاد پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اجلاسوں کا انتظام سنبھالنا ان کے لیے کوئی نیا چیلنج نہیں ہے، کیونکہ انہیں اس شعبے میں چار دہائیوں کا تجربہ حاصل ہے۔
گزشتہ بجٹ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حزبِ اختلاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو اپنے خیالات اور خدشات کے اظہار کا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً تمام اراکین نے کارروائی چلائے جانے کے انداز پر اطمینان کا اظہار کیا۔ حکومت میں چار نئے وزراء کی شمولیت پر، راتھر نے کہا کہ انہیں نئے اور تجربہ کار، دونوں طرح کے وزراء سے یہ توقع ہے کہ وہ عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق کام کریں گے۔(ایجنسیاں)