اقوامِ متحدہ، 3 نومبر,2026: بھارت اور اسرائیل نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان اور بیلاروس کی جانب سے پیش کردہ اس مسودہ قرارداد کے خلاف ووٹ دیا ہے جس کا مقصد علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر روایتی ہتھیاروں کو کنٹرول کرنا ہے۔ اس موقع پر نئی دہلی کا کہنا تھا کہ ممالک کے سکیورٹی خدشات محض علاقائی حدود تک محدود نہیں ہوتے۔ ’عام اور مکمل تخفیفِ اسلحہ: علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر روایتی ہتھیاروں کا کنٹرول‘ کے عنوان سے پیش کردہ اس مسودہ قرارداد کو پیر کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ’فرسٹ کمیٹی‘ نے 180 ووٹوں کے حق میں اور 2 ووٹوں کی مخالفت کے ساتھ منظور کر لیا، جبکہ کسی بھی رکن ملک نے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اقوامِ متحدہ کے 193 رکنی ادارے میں بھارت اور اسرائیل وہ واحد ممالک تھے جنہوں نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ بھارت کے ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں بھارت کے مستقل مشن کے فرسٹ سیکرٹری، انمول شیر بیدی نے کہا کہ روایتی ہتھیاروں کو کنٹرول کرنا ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی میں اپنے ملک کے ووٹ کی وضاحت پیش کرتے ہوئے انمول شیر بیدی نے کہا، “ہم اس بات سے مکمل طور پر قائل نہیں ہیں کہ اس معاملے کو بنیادی طور پر صرف علاقائی اور ذیلی علاقائی تناظر میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔” انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کا اس قرارداد کے خلاف ووٹ دینا، اس کے ماضی کے موقف کے عین مطابق ہے۔
بھارت نے قرارداد میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے تخفیفِ اسلحہ سے کی گئی اس درخواست پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ وہ ایسے اصول وضع کرنے پر غور کرے جو روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق علاقائی معاہدوں کے لیے ایک فریم ورک (خاکہ) کے طور پر کام کر سکیں۔ بیدی نے کہا، “ہم نے اس درخواست کو کچھ تجسس کے ساتھ دیکھا ہے۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ مذکورہ کمیشن پہلے ہی 1993 میں علاقائی تخفیفِ اسلحہ، 1999 میں روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول اور تخفیفِ اسلحہ، اور 2017 میں روایتی ہتھیاروں کے شعبے میں اعتماد سازی کے عملی اقدامات کے حوالے سے اتفاقِ رائے سے رہنما خطوط اور سفارشات اپنا چکا ہے۔ انہوں نے کہا، “اس کا مطلب یہ ہے کہ اسی موضوع پر، اسی ادارے کے اندر، پہلے ہی تین بار اتفاقِ رائے سے نتائج اخذ کیے جا چکے ہیں—اور اب اسی ادارے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ بالکل نئے سرے سے کام شروع کرے۔” بیدی نے مزید کہا، “ہمیں یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ جس موضوع پر پہلے ہی تفصیلی غور و خوض ہو چکا ہے، اس پر دوبارہ بحث کی کیا ضرورت ہے؛ سوائے اس کے کہ اس کا مقصد اقوام متحدہ کے تخفیفِ اسلحہ کے نظام کو محض مصروف رکھنا ہو۔” بیدی نے قرارداد میں کسی خطے یا ذیلی خطے کے اندر دفاعی صلاحیتوں میں توازن برقرار رکھنے سے متعلق نقطہ نظر پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا، “اس میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ ریاستوں کے سکیورٹی خدشات ان کی علاقائی سرحدوں پر ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔” (ایجنسیاں)