سٹی ایکسپریس نیوز
شملہ، 18 اگست،2026: ا نتظامی اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کے تحت، ہماچل پردیش حکومت ریاست میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس ، انڈین فارسٹ سروس اور انڈین پولیس سروس کے افسران کی تعداد میں کمی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
آئی اے ایس افسران کی تعداد 153 سے کم کر کے 130 (یعنی 23 افسران کی کمی) اور آئی ایف ایس افسران کی تعداد 118 سے کم کر کے 83 (یعنی 35 افسران کی کمی) کرنے کی تجویز پر کام جاری ہے۔ حکام نے منگل کے روز بتایا کہ آئی پی ایس افسران کی تعداد میں کتنی کمی کی جائے گی، اس کا تعین ابھی نہیں کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے کہا، "دراصل، آئی اے ایس افسران کی مطلوبہ تعداد 100 سے 110 کے درمیان ہونی چاہیے، لیکن ہم صرف 23 افسران کی کمی چاہتے ہیں کیونکہ ہمیں افسران کی فوج نہیں بلکہ ایسے افسران درکار ہیں جو حکومت کی پالیسیوں اور اسکیموں پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کر سکیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ‘آل انڈیا سروسز’ کے افسران کو مرکزی ڈیپوٹیشن کا اختیار دینے کا سلسلہ جاری رکھے گی اور انہیں جانے کی فوری اجازت دے گی۔
حکام کے مطابق، آل انڈیا سروسز کے افسران کی تعداد کم کرنے کی باضابطہ تجویز جلد ہی مرکزی حکومت کو بھیجی جائے گی۔
فی الحال، 20 سے زائد آئی اے ایس افسران اور ایک درجن سے زیادہ آئی پی ایس اور آئی ایف ایس افسران ڈیپوٹیشن پر ہیں، جن میں سے کچھ ریاست کے اندر نان کیڈرعہدوں پر تعینات ہیں۔
توقع ہے کہ ریاستی حکومت مرکزی حکومت سے یہ درخواست بھی کرے گی کہ وہ ریاست کے لیے مزید ’سینٹرل سروس‘ افسران تعینات نہ کرے، کیونکہ ایک اندازے کے مطابق ہر افسر پر سالانہ اخراجات—جن میں تنخواہ، مہنگائی الاؤنس، منسلک عملہ اور دیگر مراعات شامل ہیں—40 لاکھ سے 50 لاکھ روپے کے درمیان ہوتے ہیں۔ (ایجنسیاں)
