ناگپور، 20 اکتوبر,2026: آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے منگل کے روز خبردار کیا کہ حکومت کی تبدیلی کے لیے کی جانے والی تحریکیں بنیادی مسائل کا حل نہیں نکال سکتیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ احتجاجی مظاہرے مسائل کا حل فراہم کرنے کے بجائے سیاسی مفادات کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور معاشرے میں تفریق کو ہوا دے سکتے ہیں۔ یہاں وجے دشمی کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، بھاگوت نے بنگلہ دیش، نیپال، فرانس اور البانیہ میں حالیہ ہنگامہ خیزیوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے مفادات کے حصول میں لگی طاقتیں سیاسی حالات کو بدلنے کے لیے ‘حکومت کی تبدیلی’ کا حربہ استعمال کرتی ہیں، لیکن انہیں شاذ و نادر ہی اپنے مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت بدلنے سے حالات بدل جائیں گے، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا ہے۔” بھاگوت نے دعویٰ کیا کہ ایک مضبوط ہندوستان ایسی طاقتوں کی راہ میں رکاوٹ بنے گا، جس کی وجہ سے یہ ملک اسے کمزور کرنے اور تقسیم کرنے کی کوششوں کا ہدف بن سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کچھ عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ہندوستان ترقی کرے، لیکن وہ یہ نہیں چاہتیں کہ وہ بہت زیادہ طاقتور بن جائے، کیونکہ اس سے ان کے غلبے کو چیلنج مل سکتا ہے۔ بھاگوت نے ناگپور میں آر ایس ایس کے وجے دشمی اتسو کے موقع پر ‘شستر پوجا’ (ہتھیاروں کی پوجا) کی۔ جمہوریت میں احتجاج کے حوالے سے آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ احتجاج کا مقصد مسائل کو حل کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ سماجی تفریق کو مزید گہرا کرنا۔ انہوں نے کہا، “مسائل تو رہیں گے ہی، اور جمہوریت میں احتجاج ناگزیر ہیں۔ لیکن احتجاج کا مقصد کیا ہونا چاہیے؟ اس کا مقصد مسائل کا حل تلاش کرنا ہونا چاہیے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ جب احتجاج عوامی بہبود کے بجائے دیگر مقاصد کے تحت کیے جاتے ہیں، تو وہ سیاسی آلہ کار بن سکتے ہیں اور افراد، گروہوں یا نظریات کے خلاف دشمنی کو ہوا دے سکتے ہیں۔ بھاگوت نے سیاسی رہنماؤں، مظاہرین اور انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے اقدامات سے معاشرے میں تلخی یا تقسیم پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا، “ہمارے جذبات کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں، ہمیں اپنے آئین کی مقرر کردہ حدود، مہذب عوامی گفتگو کے اصولوں اور شائستہ رویے کے معیارات کا احترام کرنا چاہیے۔” (ایجنسیاں)