سٹی ایکسپریس نیوز
بشکیک، یکم ستمبر،2026: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کو دہشت گردی اور اس کی مالی معاونت کے پورے نظام (ایکو سسٹم) کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا چاہیے، اور اس لعنت سے نمٹنے میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
کرغزستان کے دارالحکومت میں منعقدہ ایس سی او کے سالانہ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ دنیا بھر میں تمام جنگوں اور تنازعات کا حل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے کیونکہ میدانِ جنگ میں کوئی حل نہیں مل سکتا۔
مودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رابطے کے منصوبوں (کنیکٹیویٹی پروجیکٹس) میں تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے؛ ان کے اس بیان کو چین کے ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو’ کی جانب ایک بالواسطہ اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
دہشت گردی سے نمٹنے کی ضرورت پر وزیر اعظم کے یہ ریمارکس اس وقت اہمیت اختیار کر گئے جب نئی دہلی سرحد پار دہشت گردانہ سرگرمیوں کے معاملے پر پاکستان کو گھیرنے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی اور اس کی مالی معاونت کے پورے نظام کو ختم کرنا ہوگا۔
مودی نے مزید کہا کہ ہمیں ایک آواز ہو کر یہ کہنا چاہیے کہ دہشت گردی سے نمٹنے میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ جنگوں اور تنازعات کا حل میدانِ جنگ میں نہیں نکل سکتا اور انہیں بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ان تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو منڈیوں کو آپس میں جوڑتی ہیں، تجارت کو آسان بناتی ہیں اور ترقی کی نئی راہیں کھولتی ہیں۔
ساتھ ہی مودی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ باہمی رابطوں (کنیکٹیویٹی) کے لیے کی جانے والی کوششوں میں تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے لیے ایس سی او عظیم تہذیب، ثقافت اور خیالات کا سنگم ہے۔ مودی نے نشاندہی کی کہ ایس سی او کے حوالے سے بھارت کے وژن کے تین اہم ستون سکیورٹی، کنیکٹیویٹی اور مواقع ہیں۔ (ایجنسیاں)
