سٹی ایکسپریس نیوز
بیروت، 17 ستمبر،2026: مشکلات کا شکار لبنانی فوج کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں لبنان، فرانس اور اردن کے سربراہانِ مملکت جمعرات کو پیرس میں ملاقات کریں گے۔
مالی بحران کی شکار لبنانی فوج کے لیے عطیہ دہندگان کی کانفرنس ابتدائی طور پر فروری میں منعقد ہونی تھی جس کی قیادت فرانس، سعودی عرب اور امریکہ نے کرنی تھی۔ تاہم، ایران جنگ کے آغاز اور اسرائیل-حزب اللہ جنگ کے تازہ ترین سلسلے کے بعد اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
لبنانی فوج اب اسرائیلی فوج — جو اس وقت جنوبی لبنان کے بڑے حصے پر قابض ہے اورحزب اللہ کے درمیان پھنس گئی ہے۔ اس عسکریت پسند گروپ نے ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔
جون میں، لبنانی اور اسرائیلی حکومتوں نے ایک فریم ورک معاہدے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت اسرائیل کو بتدریج جنوبی لبنان سے انخلا کرنا تھا اور لبنانی فوج کو کنٹرول سنبھالنا تھا، جبکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جانا تھا۔ اس معاہدے پر عمل درآمد تعطل کا شکار ہے۔
لبنانی صدر کے دفتر کے ایک بیان کے مطابق، پیرس میں ہونے والی جمعرات کی ملاقات کا مرکز عطیہ دہندگان کی کانفرنس کے لیے راہ ہموار کرنا ہوگا۔ اس میں جنوبی لبنان کی صورتحال اور سال کے آخر میں اقوام متحدہ کی امن فوج (یو این آئی ایف آئی ایل) کی مدت ختم ہونے کے بعد وہاں بین الاقوامی موجودگی کے منصوبوں پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔
نومبر 2024 میں ختم ہونے والی گزشتہ جنگ میں حزب اللہ شدید کمزور ہو گئی تھی، اور اس کے بعد لبنان نے عون اور وزیر اعظم نواف سلام کا انتخاب کیا جنہوں نے ملک میں حزب اللہ اور دیگر غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا عہد کیا تھا۔
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے لبنان پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ اس نے عسکریت پسند گروپ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے براہِ راست فوجی کارروائی نہیں کی۔
لبنانی حکام فوج اور حزب اللہ کے درمیان تصادم سے محتاط ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ یہ صورتحال خانہ جنگی کا رخ اختیار کر سکتی ہے۔ حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اسے پورے لبنان میں تعیناتی کے لیے ایک بڑی اور بہتر سازوسامان کی حامل فوج کی ضرورت ہے تاکہ حزب اللہ کے ان حامیوں کا اعتماد جیتا جا سکے جو فوج کی جانب سے اپنے تحفظ کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔
بحیرہ روم کے اس چھوٹے سے ملک کی فوج کو درکار مالی وسائل اور سازوسامان کی کمی کا سامنا ہے اور یہ برسوں سے بین الاقوامی عطیہ دہندگان، بالخصوص امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اٹلی پر بڑی حد تک انحصار کرتی رہی ہے۔
سعودی عرب نے ابتدائی طور پر 2013 میں فرانسیسی ہتھیاروں کے ذریعے لبنانی فوج کی معاونت کے لیے 3 ارب امریکی ڈالر مختص کیے تھے۔ تاہم، 2016 میں سعودی عرب نے یہ امداد روکنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس دوران حزب اللہ کی سیاسی طاقت میں اضافہ ہوا اور مملکت کے ساتھ لبنانی حکومت کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔
سن 2019 کے اواخر میں ملک کو درپیش مالی بحران کے بعد سے بہت سے فوجی فوج چھوڑ چکے ہیں یا گزر بسر کے لیے اضافی ملازمتیں کر رہے ہیں۔ اس بحران نے ان ریاستی اداروں کو بری طرح متاثر کیا جو کبھی اچھی تنخواہیں اور مراعات فراہم کرتے تھے، اور اس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کی جمع پونجی بینکوں میں پھنس کر رہ گئی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ریاستی بجٹ میں کمی کے باعث فوج کو اپنے اہلکاروں کی تنخواہوں کی بروقت اور مناسب ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ (ایجنسیاں)
