تعمیل میں کمی اور ڈی ریگولیشن اصلاحات کی پیش رفت کا جائزہ
اصلاحات کا بروقت نفاذکاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کیلئے ضروری :اتل ڈولو
انفو
سری نگر/۴۲،جولائی:چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جمعرات ایک اعلی سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں مرکزی حکومت کی کابینہ سیکرٹری کی سربراہی میں قومی ٹاسک فورس کی سفارش کردہ تعمیل میں کمی اور ڈی ریگولیشن اصلاحات کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری پاور ڈویولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، کمشنر سیکرٹری جنگلات، کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت، کمشنر سیکرٹری دیہی ترقیات، سیکرٹری قانون، ڈائریکٹر صنعت و حرفت جموں اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ دورانِ میٹنگ چیف سیکرٹری نے ٹاسک فورس کی جانب سے نشان زدہ اہم اصلاحاتی شعبوں کا جائزہ لیا اور مکمل کی جانے والی تعمیل اور واپس کی جانے والی اعتراضات کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے زور دیا کہ تمام اہم شعبوں میں تعمیل کے ثبوت کو بغیر کسی تاخیر کے اپ لوڈ کیا جائے۔اَتل ڈولو نے کہا کہ یہ اقدامات جموں و کشمیر میں کاروبار کے لئے آسانی پیدا کرنے کے لئے اِنتہائی اہم ہیں اور ریگولیٹری تبدیلیوں کے نفاذ کو مشن موڈ میں کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے صنعت و حرفت کے محکمہ کو ہدایت دی کہ تمام ضروری دستاویزات مکمل کی جائیں اور ان کی رپورٹ جلد انہیں پیش کی جائے۔کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وکرم جیت سنگھ نے میٹنگ کو جانکاری دی کہ مختلف محکموں کے تحت 434 اصلاحات کامیابی سے عمل میں لائی گئی ہیں۔ان میں سے چند محکموں سے متعلق 9 اِصلاحاتی نکات ٹاسک فورس نے آبزرویشن کے ساتھ واپس کئے۔اُنہوں نے یقین دِلایا کہ صنعت وحرفت محکمہ نے بطور نو ڈل ڈیپارٹمنٹ ان خلاوں کو پرُکرنے کے لئے کام شروع کیا ہے بالخصوص ان 9 اہم شعبوں پر توجہ دی جا رہی ہے اور آئندہ دنوں میں تعمیل کے ثبوت اپ لوڈ کئے جائیں گے۔ڈائریکٹر صنعت جموں ارون کمار منہاس نے بہتری کے لیے نشاندہی کیے گئے مخصوص شعبوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ ان میں زمین کے استعمال کی تبدیلی (سی ایل یو) کے عمل کو آسان اور ڈیجیٹائز کرنا، ددیہی علاقوں میں مختلف صنعتی سیٹ اپ کے لیے سڑک کی کم از کم چوڑائی کی ضروریات کو درست کرنا، صنعتی پلاٹوں میں زمین کے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لئے عمارت کے ضوابط میں ترمیم، بعض خطرناک شعبوں میں خواتین کے کام کرنے پر پابندیوں کا خاتمہ، فیکٹری کے قوانین کے تحت کام کے اوقات کی حدود کا جائزہ، تجارتی اداروں کے لئے کاروباری اوقات کی پابندیوں کو ختم کرنا شامل ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ یہ اقدامات صنعتی ماحول کو بہتر بنانے اور یونین ٹیریٹری میں کاروبار کے لئے زیادہ دوستانہ ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ”بزنس ریفارمز ایکشن پلان (بی آر اے پی)“ جسے صنعت اور اندرونی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈِی پی آئی آئی ٹی) نے شروع کیا ہے، مرکزی حکومت کا ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد ریاستوں اور یوٹیز میں کاروباری ضوابط کو آسان بنانا اور ایک قابل عمل ریگولیٹری ماحول پیدا کرنا ہے۔اِس کی اِبتدا 2015 میں ہوئی تھی اور اب تک اس کے چھ کامیاب ایڈیشن ہو چکے ہیں۔ موجودہ ایڈیشن بی آر اے پی۔ 2024 کے ساتھ ساتھ بی آر اے پی پلس اور آر سی بی پلس ساتواں ایڈیشن ہے جس کی تکمیل کی تاریخ 15 مارچ 2025 ہے۔چیف سیکرٹری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام محکموں کو تعمیل میں کمی اور ریگولیٹری سادہ سازی کو حکومت کے اہم اہداف کے طور پر دیکھنا چاہیے کیوں کہ یہ اصلاحات براہ راست اقتصادی ترقی، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور جموں و کشمیر کے روزگار کے منظرنامے پر اثر ڈالیں گی۔
