سٹی ایکسپریس نیوز
واشنگٹن، 26 اگست،2026: آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے عروج سمیت مختلف عوامل کی بدولت عالمی معیشت نے آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والے ‘آئل شاک’ (تیل کی سپلائی میں خلل کے جھٹکے) کا مقابلہ "خدشات سے کہیں بہتر” انداز میں کیا ہے۔
جارجیوا نے منگل کے روز صحافیوں کو بتایا کہ "مصنوعی ذہانت کے حوالے سے جو چیز ابتدا میں محض امریکہ تک محدود ایک رجحان تھی، اب وہ عالمی معیشت کے لیے ترقی کا انجن بن رہی ہے، کیونکہ دیگر ممالک بھی ڈیٹا سینٹرز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں تیزی لا رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ تیل و گیس کے ذخائر کے استعمال اور خلیجی خطے کے علاوہ دیگر ذرائع سے سپلائی میں اضافے جیسے عوامل کے امتزاج کی بدولت عالمی معیشت نے "آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کا مقابلہ ہماری توقعات سے بہتر انداز میں کیا ہے۔”
اگلے ہفتے ایشوِل، شمالی کیرولائنا میں ہونے والے جی-20 وزرائے خزانہ کے اجلاس سے قبل جارجیوا نے کہا کہ "عالمی معیشت کو مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے عروج سے بھی تقویت مل رہی ہے، خاص طور پر امریکہ میں، جہاں کارپوریٹ آمدنی اور صارفین کی طلب، دونوں ہی مضبوط ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت کو مغربی ایشیا کی جانب سے سپلائی میں خلل کے منفی اثرات اور مصنوعی ذہانت کی وجہ سے طلب میں اضافے کے مثبت رجحان کے درمیان ایک کشمکش کا سامنا ہے۔
جارجیوا نے کہا کہ "ان دونوں قوتوں کا مجموعی اثر مختلف ممالک کے لیے یکساں نہیں ہے اور اس کا انحصار توانائی کی سپلائی میں خلل سے متاثر ہونے کے امکانات، میکرو اکنامک کمزوریوں اور مصنوعی ذہانت کی ویلیو چین (سلسلے) میں ان کے مقام پر ہے۔”
جارجیوا نے کہا کہ معاشی منظرنامے سے وابستہ خطرات ‘بہار کے اجلاسوں’ کے مقابلے میں اب زیادہ متوازن ہیں لیکن ان کا جھکاؤ بدستور منفی سمت (downside) کی جانب ہے، جبکہ غیر یقینی صورتحال بھی بدستور بلند ہے۔
انہوں نے کہا، "مالیاتی دباؤ میں اضافہ—جس کا ثبوت بانڈز پر بڑھتا ہوا منافع ) ہے اور افراطِ زر میں کمی کے عمل کا رک جانا، مارکیٹوں اور پالیسی سازوں، دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔”
آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ تیل اور گیس کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور شمالی نصف کرہ میں سردیوں کا موسم جلد ہی شروع ہونے والا ہے۔
انہوں نے کہا، "اس کا مطلب ہے کہ توانائی کے بحران کا خاتمہ نہیں ہوا ہے: تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ افراطِ زر کو ہوا دے سکتا ہے، جس سے مرکزی بینک سخت پالیسی برقرار رکھنے پر مجبور ہوں گے، اور اس کے نتیجے میں قرضوں کی ادائیگی اور معاشی سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔”
جارجیوا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے اثرات اب بھی نمایاں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں، جن میں مالیاتی استحکام کو لاحق ممکنہ خطرات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا، "اگر معاشی حالات مزید بگڑتے ہیں تو اس سے دنیا بھر میں ترقی کے امکانات میں تفاوت (ڈسپریشن) مزید بڑھ جائے گا۔ کچھ ممالک، خاص طور پر کم آمدنی والے وہ ممالک جو ایندھن کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، پہلے ہی مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔”
جارجیوا نے کہا کہ کم آمدنی والے ممالک کے لیے تیل، گیس اور کھاد جیسی اہم اشیاء کی سپلائی میں خلل غذائی عدم تحفظ کا باعث بن سکتا ہے، اور یہ مسئلہ شدید موسمی حالات کی وجہ سے مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، "ترقی پذیر دنیا میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں پیچھے رہ جانے کا خطرہ بھی زیادہ نمایاں ہے۔”
جولائی میں، آئی ایم ایف نے 2026 کے لیے عالمی ترقی کی پیش گوئی کو کم کر کے 3 فیصد کر دیا تھا اور مغربی ایشیا کے تنازع، تجارتی تقسیم اور مصنوعی ذہانت سے جڑی غیر یقینی صورتحال کے باعث منفی خطرات سے خبردار کیا تھا۔
ادارے کی جانب سے ترقی کے منظرنامے پر نظرِ ثانی کا اگلا مرحلہ اکتوبر کے وسط میں بنکاک میں ہونے والے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران متوقع ہے۔ (ایجنسیاں)
