277

آرٹیکل370کی منسوخی اورجموں وکشمیرکی تقسیم وتنظیم نوسے متعلق مرکزکے فیصلہ جات

عرضیوں کی فہرست سازی پر سپریم کورٹ رضامند
دسہرہ کی چھٹی کے بعد معاملے کو سماعت کےلئے فہرست میں درج کیا جائے گا:چیف جسٹس
نیوزمانٹرینگ

سری نگر:۳۲، ستمبر: ملک کی اعلیٰ ترین سیویلین عدالت سپریم کورٹ آف انڈیا نے جمعہ کواسبات پر رضامندی ظاہر کی کہ دسہرہ کی تعطیل کے بعد آرٹیکل 370 کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی عرضی درج کرکے اس معاملے کوزیرسماعت لائے گی ۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ وہ اس معاملے کو فہرست میں شامل یادرج کرے گی ، جس میں آرٹیکل 370 کی منسوخی اور جموں و کشمیر کو 2مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کو چیلنج کیا گیا ہے ۔عدالت عظمی نے کہاکہ دسہرہ کی تعطیل کے بعداس معاملے کو سماعت کےلئے فہرست میں درج کیا جائے گا۔ چیف جسٹس آف انڈیا،جسٹس یو یو للت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ہم یقینی طور پر اس کی فہرست بنائیں گے۔ دسہرہ کی چھٹی3 اکتوبر سے 9 اکتوبر تک رہے گی۔ فوری فہرست سازی کے معاملے کا ذکر کرنے والے وکیل نے بنچ کو بتایا کہ یہ معاملہ ایک سال سے زیر التواءہے۔ اس سے پہلے، سابق چیف جسٹس این وی رمنا نے کہا تھا کہ وہ جولائی میں آرٹیکل370 کو ختم کرنے والے قانون کی صداقت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کے ایک گروپ کی فہرست بنانے کی کوشش کریں گے۔سپریم کورٹ کے سامنے متعدد عرضیاں زیر التوا ہیں جو آئین کے آرٹیکل370 کو ختم کرنے اور جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے قانون کے جواز کو چیلنج کرتی ہیں۔ بعد میں، جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ، 2019 کے مطابق اسمبلی حلقوںکی سرنو حد بندی کیلئے کمیشن کی تشکیل اوراس سے متعلق حکومت کی کارروائی کے خلاف کچھ عرضیاں دائر کی گئیں۔ان عرضیوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ حدبندی کی آڑ میں مرکز کی جانب سے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لائی جارہی ہیں جس سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ عرضی2019 سے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔جبکہ درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے کچھ ناقابل واپسی اقدامات کئے ہیں۔سپریم کورٹ میں دائر عرضیوں یادرخواستوں میں کہا گیا ہے کہ مرکز نے اسمبلی انتخابات کے انعقاد سے قبل تمام حلقوں کےلئے علاقے میں حدود کا تعین کرنے کیلئے ایک حد بندی کمیشن تشکیل دیا ہے۔ یادرہے5، اگست 2019 کو مرکزی حکومت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور سابق ریاست یاخطے کو 2 مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔مارچ 2020 میںسپریم کورٹ کے5ججوں کی بنچ نے اس معاملے پر 7 ججوں کے بڑے بنچ سے رجوع کرنے سے انکار کر دیا تھا- درخواستوں کا ایک بیچ جس میں 5اگست2019 کو آرٹیکل 370 کی دفعات کو منسوخ کرنے کے مرکز کے فیصلے کے آئینی جواز کو چیلنج کیا گیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ حوالہ دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ آرٹیکل370 کی منسوخی کو کوئی بھی فریق واپس نہیں لے سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں