1,371

عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان بھرمیں دھماکہ خیز صورتحال،جلاﺅگھیراﺅ کے واقعات جاری

پنجاب سمیت کئی صوبوں میں فوج طلب
سابق پاکستانی وزیر اعظم کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ ،شاہ محمود قریشی اوراسدعمر سمیت تحریک انصاف کے کئی لیڈر گرفتار
یواین آئی

اسلام آباد:۰۱،مئی:پاکستان کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کا القادر ٹرسٹ کیس میں8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے نیب نے 14 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔اے آر وائی نیوز کے مطابق احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کا القادر ٹرسٹ کیس میں محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا ہے اور ان کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ نیب کی جانب سے عمران خان کے14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت احتساب عدالت میں ہوئی تھی۔ جس میں نیب نے ان کے چودہ روزہ ریمانڈ کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے ڈپٹی پراسیکیورٹر اور عمران خان کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب سنایا گیا ہے۔اس سے قبل عمران خان کو پولیس لائن ہیڈ کوارٹر میں قائم احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے مقدمے کی سماعت کی جب کہ عمران خان کی نمائندگی ان کے وکلا خواجہ حارث، بیرسٹر علی گوہر اور ایڈووکیٹ علی بخاری نے کی۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ یہ کرپشن کا معاملہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پکڑا گیا اور عمران خان کو گرفتاری کے وقت وارنٹ دیے گئے تھے۔اس موقع پر سابق وزیراعظم عمران خان نے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ انہیں گرفتار کرتے وقت نہیں بلکہ نیب آفس پہنچنے کے بعد وارنٹ گرفتاری دیے گئے تھے۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے عمران خان کے وکلا کو دستاویز دینے کی یقین دہانی کرائی اور عدالت کو آگاہ کیا کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے کرپشن کی تحقیقات کیں، رقم پاکستانی حکومت کے بجائے ایڈجسٹس کی گئیں۔عدالت میں عمران خان کے وکلا نے سابق وزیراعظم کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کر دی اور خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کے قانونی پہلو پر بات کروں گا کہ ان کی گرفتاری قانون کے مطابق نہیں ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کی زمین پر بلڈنگ بنی ہوئی ہے اور اس ٹرسٹ میں لوگ مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ٹرسٹ کا ایک لیگل پرسن ہوتا ہے جو پبلک آفس ہولڈر نہیں ہوتا جب کہ عمران خان اس وقت پبلک آفس ہولڈر نہیں ہیں۔عمران خان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب کہہ رہا ہے کہ ہم نے ریکارڈ اکٹھا کرنا ہے، جو بھی پیسے آئے تھے وہ کابینہ کی منظوری سے آئے تھے۔عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے نیب کی ریمانڈ دینے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو کچھ دیر میں سنایا جائے گا۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے رینجرز نے گرفتار کیا تھا۔ ان کی گرفتاری نیب کے القادر ٹرسٹ کیس میں عمل میں لائی گئی تھی اور گرفتاری کے بعد پی ٹی ا?ئی چیئرمین کو نیب راولپنڈی آفس منتقل کر دیا گیا تھا۔بعد ازاں ا?ج صبح انہیں پولیس لائن ہیڈ کوارٹر منتقل کرکے اس جگہ کو سب جیل کا درجہ دیا گیا اور وہاں میڈیا سمیت تمام غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع ہے۔ پولیس لائن کے مرکزی دروازے کی سیکیورٹی انتہائی سخت جب کہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس لائن ہیڈ کوارٹر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اس کے علاوہ وہاں آنے والے راستوں پر کنٹینر لگا دیے گئے ہیں۔سماعت کے آغاز سے قبل عمران خان نے اپنے وکلا سے ملاقات کی اور ان سے کیس سے متعلق مشاورت بھی کی تھی۔اس سے قبل پولیس لائن ہیڈ کوارٹر میں ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی تھی جس میں ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے عمران خان پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم سابق وزیراعظم نے صحت جرم سے انکار کر دیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ ایسی مثالیں موجود ہیں جب عدالت کے احاطے میں گرفتاریاں کی گئیں تاہم جس طریقے سے عمران خان کے وارنٹ پر عملدرآمد کیا گیاوہ توہین آمیز ہے ۔تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی 2مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع کا تحریری حکم جاری کردیا۔تھانہ رمنا اور تھانہ سیکرٹریٹ میں درج مقدمے میں عبوری ضمانت میں توسیع کی گئی ، اسلام آبادہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق نے گزشتہ روزکی سماعت کاتحریری حکم جاری کیا۔جس میں آئی جی اسلام آباد اور سیکرٹری داخلہ کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے 16 مئی کو طلب کرلیا۔حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالت کے احاطے سے گرفتاری فی الفور غیر قانونی نہیں ہے، ایک ایسی چیز ہے، جسے وقتاً فوقتاً سراہا نہیں گیا اور اس سےگریز کیا جانا چاہیے۔اسلام آبا ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ایسی مثالیں موجود ہیں جب عدالت کے احاطے میں گرفتاریاں کی گئیں، وکلا کی بڑی تعداد سے ہاتھا پائی کی گئی اور ان میں سے کچھ زخمی ہوئے، عدالتی عملہ اورہائیکورٹ کےاحاطےمیں تعینات کچھ پولیس اہلکار بھی شامل تھے،اسلام آبادہائیکورٹ کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔تحریری حکم کے مطابق جس طریقے سے عمران خان کے وارنٹ پر عملدرآمد کیا گیاوہ توہین آمیز ہے، یہ عدالت کی عزت ،وقار کو مجروح کرنے کے مترادف اور شائدتوہین آمیز ہے۔حکم نامے میں کہا گیا کہ رجسٹراراملاک کو نقصان پہنچانے،وکلا،عملےکو چوٹ پہنچانے کے ذمہ داروں کیخلاف مقدمہ کیلئے افسرتعینات کریں اور رجسٹرار اس واقعے کی انکوائری بھی کریں اور 10دن کے اندر رپورٹ پیش کرے۔عدالت کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں اگر وہ مناسب سمجھے توکسی ایجنسی سے مدد لے سکتا ہے، آئی جی پولیس ،سیکریٹری داخلہ کیخلاف توہین عدالت کارروائی شروع کی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں