BNS کے مکمل نفاذ کے بعد مقدمات3 سال میں نمٹائے جائیں گے
’سزا نہیں بلکہ انصاف‘نئے قانون کا بنیادی اصول
جرائم کی روکتھام اور مجرموں کی حوصلہ شکنی کیلئے اس کی ضرورت :امت شاہ
نیوزایجنسی
سری نگر:۳ ،اکتوبر:بھارتیہ نیائے سنہتا کے مکمل نفاذ کے بعد ملک میں فوجداری مقدمات کے نظام میں نمایاں تبدیلی آئے گی کا اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ نئے قانون کا بنیادی اصول ”سزا نہیں بلکہ انصاف“ ہے، جبکہ سزا صرف وہاں دی جائے گی جہاں جرائم کی روک تھام اور مجرموں کی حوصلہ شکنی کے لیے اس کی ضرورت ہو۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق وزیر داخلہ و تعاون امیت شاہ نے کہا ہے کہ بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کے مکمل نفاذ کے بعد ملک میں فوجداری مقدمات کے نظام میں نمایاں تبدیلی آئے گی اور ایف آئی آر درج ہونے سے لے کر سپریم کورٹ تک مقدمات کو 3سال کے اندر نمٹانے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔بھوپال میں مویشی پالنے والوں کی ریاستی سطح کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے نئی فوجداری قانون سے متعلق ایک نمائش کا افتتاح بھی کیا۔(۵پر)
انہوں نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ سال بعد جب نئے فوجداری قوانین مکمل طور پر نافذ العمل ہوں گے تو ایف آئی آر درج ہونے سے لے کر سپریم کورٹ تک کسی بھی مقدمے کو تین سال کے اندر نمٹانے کا نظام قائم کیا جائے گا۔امیت شاہ نے کہا کہ ایک وقت میں بھارت کا فوجداری نظام انصاف مقدمات کے طویل عرصے تک زیر التوا رہنے کے لیے جانا جاتا تھا، تاہم اب صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ نئے قانون کے مکمل نفاذ کے بعد عدالتی عمل کو مزید تیز اور جدید بنانے کی کوشش کی جائے گی۔مرکزی وزیر داخلہ نے نئے فوجداری قانون کے بنیادی فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ برطانوی دور میں بنائے گئے قوانین کا مقصد ان کی حکومت اور حکمرانی کا تحفظ کرنا تھا، جبکہ نئے فوجداری قوانین کا مقصد شہریوں کے وقار اور حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کے مطابق نئے قانون کا بنیادی اصول ”سزا نہیں بلکہ انصاف“ ہے، جبکہ سزا صرف وہاں دی جائے گی جہاں جرائم کی روک تھام اور مجرموں کی حوصلہ شکنی کے لیے اس کی ضرورت ہو۔شاہ نے دعویٰ کیا کہ بی این ایس کے مکمل نفاذ کے بعد بھارت کا فوجداری نظام انصاف دنیا کے جدید ترین نظاموں میں شامل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئے قوانین کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز کرنے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور شہریوں کو بروقت انصاف فراہم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ آزادی کے بعد سے زرعی نظام، دیہی ترقی اور تعاون کے شعبے سے وابستہ افراد ایک علیحدہ وزارتِ تعاون کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے، تاہم ان کے مطابق یہ وزارت 75 برس تک قائم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد علیحدہ وزارتِ تعاون قائم کی گئی۔شاہ نے کہا کہ وزارتِ تعاون کے قیام سے سب سے زیادہ فائدہ مویشی پالنے والوں کو پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے دودھ کی پیداوار میں اضافے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2014-15میں بھارت کی مجموعی دودھ کی پیداوار تقریباً 14.7 کروڑ ٹن تھی، جو ان کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں بڑھ کر تقریباً 25 کروڑ ٹن ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گائے کی نسلوں کو بہتر بنانے اور مویشیوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ امت شاہ نے کہا کہ حکومت دودھ کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ مویشی پالنے والوں کی معاشی حالت بہتر بنانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔مرکزی وزیر نے کانگریس پر ملک میں ”منفی سوچ“ پھیلانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک نے مختلف شعبوں میں ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے عہد کیا ہے کہ 15 اگست 2047 تک بھارت کو دنیا کے ہر شعبے میں سرفہرست ملک بنانے کی کوشش کی جائے گی۔شاہ نے کہا کہ حکومت ملک کے عدالتی، قانونی، زرعی اور تعاونی نظام میں اصلاحات کے ذریعے شہریوں کو بہتر سہولیات اور بروقت انصاف فراہم کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔
