تفتیشی افسر کے اکاؤنٹ میں مبینہ طور پر 10,000 روپے منتقل؛ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ اور بی این ایس کے تحت مقدمہ درج
سٹی ایکسپریس نیوز
سری نگر، 18 اگست،2026: جموں و کشمیر کرائم برانچ کے ‘اکنامک آفنسز ونگ’ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے میرگنڈ، بڈگام کے رہائشی غلام احمد گنائی ولدغلام محمد گنائی کے خلاف کرائم برانچ کی تفتیش پر اثر انداز ہونے کی مبینہ کوشش کے سلسلے میں سری نگر میں انسدادِ بدعنوانی کے خصوصی جج کی عدالت میں چارج شیٹ دائر کی ہے۔
یہ چارج شیٹ ایف آئی آر نمبر 28/2026 کے تحت دائر کی گئی ہے، جس میں ‘انسدادِ بدعنوانی ایکٹ’ کی دفعہ 8 اور ‘بھارتیہ نیایا سنہتا’ (بی این ایس) کی دفعات 228 اور 229 کے تحت قابلِ گرفت جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
کرائم برانچ کے مطابق، تفتیش کا آغاز ایک تحریری شکایت کے بعد کیا گیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزم — جو کرائم برانچ کشمیر (موجودہ ای او ڈبلیو کشمیر) کی ایف آئی آر نمبر 11/2021 میں بھی تفتیش کا سامنا کر رہا ہے نے ایک تفتیشی افسر کے بینک اکاؤنٹ میں 10,000 روپے منتقل کیے۔
اطلاعات کے مطابق، رقم کی یہ مبینہ منتقلی تفتیشی افسر کو رشوت دینے، ان پر اثر انداز ہونے اور مذکورہ مقدمے میں جاری تفتیش میں مداخلت کرنے کی نیت سے کی گئی تھی۔
شکایت موصول ہونے کے بعد باضابطہ تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ تفتیش کے دوران الزامات کا جائزہ لیا گیا اور تفتیشی ایجنسی کی جانب سے متعلقہ دستاویزی اور دیگر شواہد اکٹھے کیے گئے۔
کرائم برانچ کے بیان کے مطابق، تفتیش سے جرم میں ملزم کی مبینہ شمولیت ثابت ہوئی۔ اس کے بعد چارج شیٹ تیار کی گئی اور قانون کے مطابق عدالتی کارروائی کے لیے مجاز عدالت میں پیش کی گئی۔
اب یہ مقدمہ عدالت میں کارروائی کے مرحلے سے گزرے گا، جہاں شواہد اور قابلِ اطلاق قانون کی بنیاد پر معاملے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
کرائم برانچ نے عوام سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی رعایت یا خدمت کے حصول کے لیے کسی سرکاری ملازم کو رشوت کی پیشکش نہ کریں اور نہ ہی رشوت ادا کریں۔
ایجنسی نے شہریوں کو مزید مشورہ دیا کہ وہ رشوت کے مطالبے یا بدعنوانی کے معاملات میں ملوث ہونے کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں تاکہ مناسب قانونی کارروائی شروع کی جا سکے۔
ایجنسی نے اس بات پر زور دیا کہ احتساب کو مضبوط بنانے اور بدعنوانی کے رجحان کی روک تھام کے لیے عوامی تعاون، شفافیت اور بدعنوانی کی بروقت اطلاع دینا انتہائی ضروری ہے۔(ایجنسیاں)
