سٹی ایکسپریس نیوز
جموں، 18 اگست،2026: بی جے پی کے رکن اسمبلی شام لال شرما نے منگل کے روزخبردار کیا کہ اگر نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوام کے خدشات کو نظر انداز کرتی رہی اور اپنے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی تو جموں و کشمیر میں ایک بہت بڑی عوامی تحریک دیکھنے میں آ سکتی ہے۔
گزشتہ روز جموں میں بی جے پی کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے شرما نے کہا کہ یہ مظاہرہ حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے کی محض ایک جھلک تھی۔
شرما نے کہا، "کل کا احتجاج تو صرف ایک ٹریلر تھا۔ اگر این سی حکومت عوام کی آواز کو نظر انداز کرتی رہی اور اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی تو جموں و کشمیر ایک بہت زیادہ طاقتور تحریک کا مشاہدہ کرے گا۔”
انہوں نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر حکمرانی اور انتظامی امور میں ناکامی کا الزام عائد کیا اور اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ ریاست کا مکمل درجہ نہ ہونا ان کی ناکامیوں کا ذمہ دار ہے۔
انہوں نے کہا، "حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ وہ ریاست کا درجہ نہ ہونے کے بہانے بنا رہے ہیں، جس کا حکمرانی اور انتظامی امور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”
شرما نے کہا کہ بی جے پی ایک ذمہ دار اپوزیشن کے طورپرکام کرتی رہے گی اور حکومت کو اس کے فیصلوں اور کارکردگی کے لیے جوابدہ ٹھہرائے گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نیشنل کانفرنس کے منشور میں شامل کئی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے اور انہوں نے مفت بجلی، مفت گیس، ڈیلی ویجرز (یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں) کی ملازمتوں کو مستقل کرنے اور پنشن میں اضافے سے متعلق وعدوں کی موجودہ صورتحال پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے پوچھا، "مفت بجلی کہاں ہے؟ گیس کہاں ہے؟ ڈیلی ویجرز کو مستقل کرنے اور پنشن میں اضافے کا کیا بنا؟”
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اپوزیشن عوام کو متاثر کرنے والے مسائل اٹھاتی رہے گی اور انتخابات سے قبل کیے گئے وعدوں پر حکومت سے جواب طلب کرتی رہے گی۔ (ایجنسیاں)
