سٹی ایکسپریس نیوز
اقوامِ متحدہ، 27 اگست،2026: غزہ کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے نگران عہدیدار نے بدھ کے روز جنگ سے تباہ حال فلسطینی علاقے پر اسرائیل کے حملوں پر تنقید کی اور خبردار کیا کہ امریکی تجویز کا متبادل ’اگلی جنگ‘ ہے۔
امن عمل کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملاڈینوف نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ تعطل کا شکار نہیں ہوا ہے بلکہ یہ "مذاکراتی میز سے عملی اقدامات (انجینئرنگ ٹیبل) کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند گروپ حماس اس تجویز کی اہم شق پر راضی ہو گیا ہے جس کے تحت اسے ہتھیار چھوڑنے ہوں گے اور غزہ کا انتظام سویلین (شہری) انتظامیہ کے حوالے کرنا ہوگا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ گزشتہ اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل کے جاری حملوں میں فلسطینی ہلاک ہو رہے ہیں — اگرچہ ان کی تعداد بہت کم ہے — اور غزہ کے رہائشیوں کو یہ محسوس نہیں ہو رہا کہ تنازعہ ختم ہو رہا ہے۔
ملاڈینوف نے کہا، "تین سالہ جنگ اور 20 سالہ فوجی کارروائیوں کے بعد، میں یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا اسلحہ کے کسی ڈپو پر ایک اور حملہ حماس کو دوبارہ ہتھیار حاصل کرنے یا غزہ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے سے روک سکے گا؟” انہوں نے مزید کہا، "ایسا نہیں ہوگا۔ اس سے صرف اس عمل میں تاخیر ہوتی ہے جس کے تحت علاقے کو غیر عسکری (ڈی ملٹرائز) کیا جانا تھا، اور یہ شہری حکومت کی جانب اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹ بنتا ہے۔”
حماس کے ساتھ غیر مسلح ہونے سے متعلق امریکہ کے حالیہ معاہدے کو جنگ کے خاتمے کی جانب ایک ممکنہ پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا تھا؛ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل میں اس عسکریت پسند گروپ کے مہلک حملوں کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی۔ تاہم، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جب تک حماس اپنے تمام ہتھیار حوالے نہیں کر دیتی، تب تک ان کی افواج غزہ میں اپنی موجودہ پوزیشنوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
ملاڈینوف نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے نیتن یاہو اور ٹرمپ کے داماد و مشیر جیرڈ کشنر کے ساتھ ہونے والی ایک میٹنگ میں، "ہم نے ان کی حکومت کے تحفظات کا ایک ایک کر کے جائزہ لیا اور ان امور کا دائرہ کار محدود کیا جن پر ابھی تکنیکی کام کی ضرورت ہے۔”
اقوام متحدہ میں اسرائیل کی نائب سفیر، نوآ فرمن نے سلامتی کونسل کے سامنے ٹرمپ کے منصوبے کے حوالے سے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کیا، لیکن اس بات پر زور دیا کہ جب تک حماس کے پاس ہتھیار موجود ہیں، یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل حماس کو غیر مسلح کرنے کے مقصد کے حصول کے لیے امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ ٹرمپ کے منصوبے سے متعلق خدشات کا ازالہ کیا جا رہا ہے اور حماس کے غیر مسلح ہونے کے معاملے کا فیصلہ اس کے اقدامات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
ملاڈینوف نے ‘روڈ میپ’ اور زمینی حقائق کے درمیان موجود فرق کے بارے میں خبردار کیا اور کہا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو نہ تو واپسی کے لیے کوئی روڈ میپ بچے گا اور نہ ہی زمین پر دوبارہ تعمیر کے لیے کچھ باقی رہے گا۔
انہوں نے کہا، ”یہ محض ایک دھچکا نہیں ہوگا، بلکہ یہ سب کے لیے ایک ایسا موڑ ہوگا جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی۔“
ملاڈینوف نے اختلافات پر قابو پانے کے لیے سیاسی عزم کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اب ایک انتخاب کرنا ہوگا: ”ایک ایسا غزہ جو غیر مسلح ہو، تعمیرِ نو سے گزرا ہو اور دنیا سے دوبارہ جڑ چکا ہو۔ یا پھر ایک ایسا غزہ جو دوبارہ مسلح ہو، تقسیم شدہ اور ملبے کا ڈھیر بن چکا ہو، جہاں ایک انتہا پسندانہ سوچ کی حامل نسل پروان چڑھے اور اگلی جنگ کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہو۔“
جہاں تک فلسطینیوں کا تعلق ہے، ملاڈینوف نے کہا کہ ٹرمپ کے منصوبے میں ”سیاسی افق کی جانب ایک قابلِ اعتماد راستہ“ اور دہائیوں پرانے تنازعے کے لیے ’دو ریاستی حل‘ شامل ہے۔ نیتن یاہو فلسطینی ریاست کے قیام کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ (ایجنسیاں)
