سٹی ایکسپریس نیوز
سری نگر، 17 اگست،2026: پیر کے روز ادھم پور-چنانی سیکٹر میں درمتھل-دیوال کے قریب بھاری لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) کے باعث جموں-سری نگر قومی شاہراہ (این ایچ-44) پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا، جس سے آمدورفت رک گئی اور خاص طور پر سری نگر جانے والی ‘اپر ٹیوب’ (اوپری لین) متاثر ہوئی۔
شاہراہ پر مٹی، چٹانوں اور ملبے کے بڑے تودے آ گرے، جس سے اس اہم حصے پر ٹریفک متاثر ہوئی اور حکام کو راستے میں کئی مقامات پر آمدورفت کو منظم کرنے کے اقدامات کرنے پڑے۔
نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا نے مقامی ٹیموں کے ساتھ مل کر ملبہ ہٹانے اور متاثرہ حصے پر آمدورفت بحال کرنے کے لیے عملہ اور مشینری تعینات کی۔
جکھانی اور دیوال-سمرولی کے آس پاس کے حصوں میں بھی ٹریفک کی روانی متاثر رہی، جہاں سڑک کی صورتحال کے پیش نظر وقفے وقفے سے رکاوٹ، سنگل لین ڈائیورژن اور ٹریفک کو کنٹرولڈ انداز میں آگے بڑھانے جیسے اقدامات کیے گئے۔
حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متاثرہ سیکٹر پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں جب تک کہ موسم بہتر نہ ہو جائے اور شاہراہ کو معمول کی آمدورفت کے لیے محفوظ قرار نہ دیا جائے۔
کشمیر کی جانب سفر کرنے والے گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفر شروع کرنے سے پہلے ٹریفک سے متعلق تازہ ترین ہدایات کا جائزہ لیں اور شاہراہ کے حساس یا خطرناک حصوں پر احتیاط برتیں۔
