سٹی ایکسپریس نیوز
سری نگر، 31 اگست،2026: گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سری نگر میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے سینکڑوں انٹرنز نے پیر کے روز ایک پرامن احتجاج کیا، جس میں انہوں نے اپنے ماہانہ انٹرنشپ وظیفے (اسٹائپنڈ) کو موجودہ 12,300 روپے سے بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کرنے والے انٹرنز کا کہنا تھا کہ وظیفے میں اضافے کا مطالبہ گزشتہ کئی سالوں سے نظر انداز کیے جانے کے بعد انہوں نے 31 اگست سے اپنی خدمات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پلے کارڈز اٹھائے اور نعرے لگاتے ہوئے انٹرنز نے کہا کہ انہوں نے بارہا متعلقہ حکام سے رابطہ کیا اور جموں و کشمیر میں مختلف سطحوں پر احتجاج کیا، لیکن ان کے مطالبے پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کیا گیا۔
احتجاج کرنے والے انٹرنز نے کہا، "ہم گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں اور حکام کے چکر لگا رہے ہیں، لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ہمارا مطالبہ تقریباً سات سالوں سے زیر التوا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ میڈیکل انٹرنز ہسپتالوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اکثر اپنی انٹرنشپ کے دوران طویل گھنٹوں تک کام کرتے ہوئے مختلف ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "ہم ہسپتال کے نظام کے اہم ستونوں میں سے ایک ہیں، اس کے باوجود ہمارے مسائل پر مناسب توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔”
انٹرنز نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ان کے ماہانہ وظیفے کو 30,000 روپے مقرر کرے؛ ان کا کہنا تھا کہ کام کے بوجھ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر موجودہ رقم ناکافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خدمات کی معطلی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت ان کے دیرینہ مطالبے پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کرتی۔
احتجاج کرنے والے انٹرنز نے جموں و کشمیر حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور جلد از جلد اس مسئلے کو حل کرے۔
