جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت سے متعلق قانون سازی کا مطالبہ
6پیراگرافس پر محیط تفصیلی خط ارسال،جموں وکشمیرکومکمل ریاست کا درجہ دینے سے متعلق کئے گئے وعدوں کی وزیراعظم یاددہانی ،کہاجموں و کشمیر کا معاملہ آزاد ہندوستان میں نظیر
نیوز ڈیسک
سرینگر: ۶۱،جولائی :ان امکانات کے بیچ کہ پارلیمان کے آئندہ اجلاس کے دوران مرکزی حکومت جموں وکشمیرکو ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق بل ایوان میں پیش کرسکتی ہے ،لوک سبھا میں حزب اختلا ف کے لیڈر راہول گاندھی اور راجیہ سبھامیں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے وزیراعظم نریندر مودی سے جموں کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کیلئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں قانون سازی کرنے کی اپیل کی ہے۔پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 21 جولائی سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ ایسے میں کانگریس کی جانب سے حکومت کو مختلف ایشوز پر گھیرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔اسی منصوبہ کے تحت کانگریس نے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے لیے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں قانون سازی کرے۔ اس ضمن میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور راجیہ سبھامیں اپوزیشن کے لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے
وزیراعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے۔16 جولائی 2025کو ارسال کردہ 6پیرا گرافس پر محیط اس خط میں دونوں لیڈران نے وزیراعظم مودی نے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمان کے آئندہ مانسون اجلاس میں جموں کشمیر کی ریاستی حیثیت کو بحال کرنے کے لئے قانون سازی عمل میں لائی جائے۔خط میں لکھا گیا کہ، پچھلے5 سالوں سے جموں و کشمیر کے عوام نے مسلسل مکمل ریاست کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے ۔ یہ مطالبہ ان کے آئینی اور جمہوری حقوق میں جائز بھی ہے اور مضبوطی سے بھی۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی کے خط میں لکھا گیا ہے کہ، یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ماضی میں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ریاست کا درجہ دیا گیا ہے، جموں و کشمیر کا معاملہ آزاد ہندوستان میں نظیر ہے،کیونکہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی مکمل ریاست کی تقسیم کے بعد اسے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا گیا ہے۔ راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے نےخط میں وزیراعظم مودی کو جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیے جانے سے متعلق ا±ن کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے لکھا ہے کہ، آپ نے کئی مواقع پر ذاتی طور پر ریاست کی بحالی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ 19 مئی2024 کو بھونیشور میں اپنے انٹرویو میں، آپ (وزیراعظم مودی) نے کہا، جموں وکشمیرکیلئے ریاست کی بحالی ایک پختہ وعدہ ہے جو ہم نے کیا ہے اور ہم اس پر قائم ہیں۔ ایک بار پھر، 19 ستمبر2024 کو سری نگر میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، آپ (وزیراعظم مودی) نے اس بات کی تصدیق کی، ہم (مرکزی حکومت) نے پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ ہم خطے(جموں وکشمیر) کی ریاستی حیثیت کو بحال کریں گے۔خط میں مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں بھی ریاستی درجہ بحال کرنے کی یقین دہانی کو یاد دلایا گیا ہے، اس میں لکھا گیا ہے، مزید برآں، مرکزی حکومت نے آرٹیکل370 کے معاملے میں عزت مآب سپریم کورٹ آف انڈیا کے سامنے اسی طرح کی یقین دہانیاں کرائی ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ ریاست کا درجہ جلد سے جلد اور جلد از جلد بحال کیا جائے گا۔ راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے کی جانب سے وزیراعظم مودی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے، ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں ایک قانون سازی کرے تاکہ جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کو مکمل ریاست کا درجہ دیا جائے۔خط میں لداخ سے متعلق اپیل کی گئی ہے کہ، حکومت لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کو آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت شامل کرنے کے لیے قانون سازی کرے۔ یہ لداخ کے لوگوں کے حقوق، زمین اور شناخت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کی ثقافتی، ترقیاتی اور سیاسی امنگوں کو پورا کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔
