مرکزی اسکیموں اور ترقیاتی منصوبوں کی عمل آوری کااحاطہ
مقصد صرف طبعی اہداف کا حصول ہی نہیں ہونا چاہیے: اتل ڈولو، اسکیموں اور فلیگ شپ پروگراموں کی نگرانی لازمی : نتیش ویاس
نیوزسروس
سری نگر:۳ ،اکتوبر:مرکزی وزارت داخلہ کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم نے سرینگر میں ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا جس میں جموں و کشمیر سے متعلق مختلف امور پر غور و خوض کیا گیا۔ مرکزی وزارت داخلہ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جموں و کشمیر کے اہم انتظامی، ترقیاتی اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لینے کیلئے سرینگر پہنچ گیا ہے۔ وفد نے سرینگر کے شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں ایک اہم اجلاس میں شرکت کی، جس میں جموں و کشمیر انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی موجود رہے۔ چیف سیکرٹری اتل ڈولو اور مرکزی وزارتِ داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (فارنرز اینڈ یو ٹی) نتیش ویاس نے ہفتہ کو یہاں ایس کے آئی سی سی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ اس اجلاس کا مقصد جموں و کشمیر بھر میں مختلف مرکزی معاونت والی اسکیموں کے نفاذ اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری جل شکتی، شالین کابرا؛ اے سی ایس پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، اشونی کمار؛ پرنسپل سیکرٹری ہوم، چندراکر بھارتی؛ مختلف محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے جموں و کشمیر میں مرکزی معاونت والی اسکیموں اور فلیگ شپ پروگراموں کے نفاذ کے لیے ایک مرکوز اور نتائج پر مبنی نقطہ نظر اپنانے پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقصد صرف طبعی اہداف کا حصول ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ان پروگراموں کے تحت قائم کردہ بنیادی ڈھانچہ اور خدمات عوام کو پائیدار اور قابلِ پیمائش فوائد فراہم کریں۔چیف سیکرٹری اتل ڈولونے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ جاری منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل، فنڈز کے مو¿ثر استعمال اور مختلف فلاحی و ترقیاتی(۵پر)
اسکیموں کے تحت اہل مستحقین تک رسائی کو مکمل کرنے (سیچوریشن) کو ترجیح دیں۔ انہوں نے فیلڈ کی سطح پر باقاعدہ نگرانی اور نتائج کے وقتاً فوقتاً جائزے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ نفاذ میں حائل رکاوٹوں کی ابتدائی مرحلے میں ہی نشاندہی کی جا سکے اور فوری طور پر اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔اجلاس کے دوران افسران سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزارتِ داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری نے مرکزی معاونت والی اسکیموں اور فلیگ شپ پروگراموں کے بروقت نفاذ، محکموں کے درمیان مو¿ثر باہمی رابطے، وسائل کے بہترین استعمال اور باقاعدہ نگرانی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ حکومت کے مختلف اقدامات کے فوائد مطلوبہ مستحقین تک بروقت اور مو¿ثر طریقے سے پہنچیں۔نتیش ویاس نے متعلقہ محکموں اور نفاذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ وہ حکومت ہند کی متعلقہ وزارتوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھیں اور نفاذ پر اثر انداز ہونے والے مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنائیں۔ مرکزی وزیر سومنا نے زیادہ پیدل سفر والے علاقوں میں پانی کے پائیدار انتظام پر زور دیا۔ایڈیشنل سکریٹری ایم ایچ اے نے متعلقہ محکموں اور عمل آوری کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، پراجیکٹ کی عمل آوری کو بہتر بنانے اور جموں و کشمیر میں نافذ کئے جانے والے مختلف ترقیاتی اور فلاحی پروگراموں کے قابل پیمائش نتائج کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔میٹنگ کے دوران مرکزی حکومت کے مختلف سی ایس ایس، ترقیاتی پروجیکٹوں اور جموں و کشمیر میں نافذ کیے جانے والے دیگر فلاحی اقدامات کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ایک تفصیلی پاورپوائنٹ پریزنٹیشن بھی پیش کی گئی جس میں سماگرا شکشا اور پی ایم ایس آر آئی اسکولوں کا احاطہ کیا گیا، جس میں مرحلہ وار انتخاب، اسکولوں کا تقابلی جائزہ اور بنیادی ڈھانچے کی حیثیت شامل ہے۔ پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (PMKUY) کے تحت ہنر مندی کے اقدامات کی پیشرفت اور PM-SETU کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں گھروں میں چھتوں پر سولر سسٹم کی تنصیب اور سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن پر توجہ دی گئی۔ سمارٹ میٹروں کی تنصیب، بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے اور اپ گریڈ کرنے، کنیکٹیویٹی انفراسٹرکچر اور ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم (RDSS) کے تحت منصوبوں میں پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بھارت نیٹ فیزIII کی پیشرفت کا ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو مضبوط بنانے اور براڈ بینڈ انفراسٹرکچر کو پھیلانے پر زور دیتے ہوئے جائزہ لیا گیا۔سماجی شعبے کے تحت، پردھان منتری جن دھن یوجنا (PMJDY)، پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا (PMJJBY)، پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (PMMUY) اور زچگی کے فائدہ کی اسکیموں کے تحت اندراج سمیت اہم سماجی تحفظ اور فلاحی اسکیموں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ پوشن2.0 کے نفاذ، غذائیت کی پروفائلز، افرادی قوت کی اسامیوں اور سکشم آنگن واڑی سے متعلق اہم اشارے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔امرت 2.0کے تحت ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں جاری منصوبوں کی صورتحال، کیے گئے کاموں اور ان کی طبعی (physical) و مالیاتی پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں پردھان منتری آواس یوجنا،اربن (PMAY-U) اور سوچھ بھارت مشن،اربن (SBM-U) کے تحت شہری رہائش اور صفائی ستھرائی کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا، بشمول PMAY-U,1.0 اور PMAY-U,2.0 کے نفاذ کے۔صحت کے شعبے کے جائزے میں آیوشمان بھارت ڈیجیٹل ہیلتھ، آیوشمان آروگیہ مندر، پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (PM-JAY)، نیشنل ہیلتھ مشن (NHM) اور ٹی بی مکت بھارت (ٹی بی سے پاک ہندوستان) شامل تھے۔ بات چیت میں ٹی بی کے خاتمے کے اہداف و پیش رفت اور مطلوبہ نتائج کے حصول کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ نیشنل آیوش مشن کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں دیہی رہائش اور مالیات کا مزید جائزہ لیا گیا، جس میں پردھان منتری آواس یوجنا،گرامین (PMAY-G) کے تحت مالیاتی وسائل کے استعمال اور فراہمی کی صورتحال شامل تھی۔ جائزے میں حاصل ہونے والی پیش رفت، فنڈز کے استعمال اور دیہی علاقوں کے اہل مستحقین کے لیے رہائشی منصوبوں کی بروقت تکمیل پر توجہ مرکوز کی گئی۔سیاحت کے شعبے میں، سوادیش درشن 2.0 کے تحت منصوبوں اور اسکیم کے اہم اجزاءکی پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں گرین موبلٹی اور سول ایوی ایشن کے بنیادی ڈھانچے کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں الیکٹرک موبلٹی کے اقدامات اور FAME و PM-eBus اقدامات کے تحت منصوبے شامل تھے۔سوادیش درشن1.0/2.0، PRASHAD (زیارت گاہوں کی بحالی اور روحانی و ثقافتی ورثے کو فروغ دینے کی مہم) اور انڈیا انفراسٹرکچر پروجیکٹ ڈیولپمنٹ فنڈ (PDFII) کے نفاذ کے حوالے سے بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں منصوبوں کی پیش رفت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر زور دیا گیا۔اجلاس میں پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (PMMSY) اور فشریز اینڈ ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (FIDF) کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بات چیت کا مرکز ماہی گیری اور آبی زراعت (ایکوا کلچر) کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، مچھلی کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ، پیداوار کے بعد کے انتظام اور مارکیٹ روابط کو بہتر بنانا، اور ماہی گیروں، مچھلی پالنے والوں اور ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ دیگر فریقین کے لیے روزگار کے پائیدار مواقع پیدا کرنا تھا۔ اجلاس کے دوران سوَچھ بھارت مشن (دیہی) پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ اس مشن کا مقصد دیہاتوں میں کھلے میں رفع حاجت سے پاک (ODF) حیثیت کو برقرار رکھنا اور صفائی، حفظانِ صحت اور فضلے کے انتظام کے بہتر معیارات کو فروغ دینا ہے۔ بات چیت میں ٹھوس اور مائع فضلے کے انتظام کے لیے جاری کوششوں کا احاطہ کیا گیا، جس میں گھریلو فضلے، پلاسٹک کے فضلے، استعمال شدہ پانی (گرے واٹر) اور دیہی فضلے کی دیگر اقسام کا مو¿ثر انتظام شامل تھا۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مشن کے تحت قائم کردہ صفائی ستھرائی کے بنیادی ڈھانچے کی مناسب دیکھ بھال کی جائے اور اسے فعال رکھا جائے۔جل جیون مشن (JJM) کے نفاذ کا جائزہ لیتے ہوئے، دیہی گھرانوں کو نل کے فعال کنکشنز کے ذریعے پینے کے پانی کی مناسب، قابلِ اعتماد اور پائیدار فراہمی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ جائزے میں پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کی صورتحال، گھریلو نل کنکشنز کی فعالیت، اسکیموں کے آپریشن اور دیکھ بھال، پانی کے معیار کی نگرانی اور پینے کے پانی کے ذرائع کی پائیداری جیسے امور شامل تھے۔وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے تحت آبی نقل و حمل اور اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کی ترقی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مسافروں اور سامان کی نقل و حمل کے متبادل ذریعے کے طور پر آبی گزرگاہوں کی صلاحیت کو اجاگر کیا گیا۔ بات چیت میں معاون بنیادی ڈھانچے (جیسے ٹرمینلز، جیٹیز اور جہاز رانی کی سہولیات) کی ترقی،جہاں بھی ممکن ہو،کے ساتھ ساتھ رابطوں کو مضبوط بنانے اور نقل و حرکت و اقتصادی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے امکانات کا جائزہ لینے پر بھی غور کیا گیا۔بعد ازاں، ایک اور اجلاس میں چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل سیکریٹری (وزارتِ داخلہ) نے جموں و کشمیر میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کے ساتھ ساتھ امیگریشن اور غیر ملکیوں کے انتظام سے متعلق نئے قانونی ڈھانچے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
