سری نگر، 9 اکتوبر,2026: کشمیر میں زمین کے فراڈ کے متعدد مبینہ مقدمات کے سلسلے میں ایک 80 سالہ سابق آیورویدک ڈاکٹر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان مقدمات میں کشمیری مہاجر خاندانوں کی جائیدادوں سے متعلق سودے بھی شامل ہیں، اور یہ گرفتاری تفتیش کاروں کی جانب سے مختلف شناختوں اور مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کے استعمال سے متعلق کئی شکایات کا سراغ لگانے کے بعد عمل میں آئی۔ کرائم برانچ کے ‘اکنامک آفنس ونگ’ (معاشی جرائم کے شعبے) کے حوالے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، پولیس کی جانب سے سومناتھ کول کے نام سے شناخت کیے جانے والے ملزم کو طویل تلاش کے بعد گرفتار کیا گیا اور وہ فی الحال عدالتی تحویل میں سری نگر سینٹرل جیل میں قید ہے۔ تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ ملزم برجناتھ بھٹ، ہادیناتھ دھر اور موہن لال دھر سمیت کئی ناموں سے سرگرم رہا اور خود کو یا تو جائیدادوں کا مالک یا پھر انہیں فروخت کرنے کا مجاز شخص ظاہر کرتا رہا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف دھوکہ دہی، جعل سازی اور زمین کے فراڈ پر مبنی سودوں کے متعدد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ایک رہائشی کی جانب سے گزشتہ سال نومبر میں درج کرائی گئی ایک شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ شکایت کنندہ نے پلوامہ کے گاؤں ‘ڈرسو’ میں پانچ کنال اراضی اور بجبیہاڑہ میں پاپلر کے 300 درخت 93 لاکھ روپے میں خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، جب شکایت کنندہ فروخت کے معاہدے کی توثیق کروانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ زمین اس شخص کی ملکیت نہیں تھی جس نے خود کو فروخت کنندہ ظاہر کیا تھا۔ تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ ڈرسو میں واقع زمین ایک کشمیری مہاجر پنڈت کی ملکیت تھی اور ملزم نے خود کو مالک کا مختارِ عام (اٹارنی) ظاہر کیا تھا۔ بجبیہاڑہ والے سودے میں، اس نے مبینہ طور پر خود کو مالک کے طور پر پیش کیا تھا۔ کرائم برانچ نے اس معاملے میں یکم اپریل کو ایف آئی آر درج کی تھی۔ پولیس نے ملزم کا تعلق بارہمولہ اور سری نگر میں زمین کے لیے مبینہ پیشگی ادائیگیوں سے متعلق پرانی شکایات سے بھی جوڑا ہے۔ ان میں یہ الزامات بھی شامل ہیں کہ خریداروں نے گوشہ باغ، پٹن میں ایک جائیداد کے لیے 9.17 لاکھ روپے اور گلاب باغ پانڈچ میں زمین کے سودے کے لیے 47 لاکھ روپے ادا کیے تھے۔ تفتیش کاروں نے مزید الزام لگایا ہے کہ ہمہامہ میں زمین کا ایک ہی ٹکڑا دو مختلف خریداروں کو فروخت کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اور ان سے مجموعی طور پر ایک کروڑ روپے کی رقم مبینہ طور پر وصول کی گئی تھی۔ تفتیش کاروں کے مطابق، تحقیقات کے دوران 2017 سے 2026 کے عرصے پر محیط کم از کم چار مزید مقدمات کی نشاندہی کی گئی۔ ان الزامات میں کشمیری مہاجر خاندانوں کی چھوڑی ہوئی جائیدادوں سے متعلق معاہدوں میں جعلی شناخت اور دستاویزات کا استعمال شامل ہے۔