اس تحریر میں موجود تفصیلات قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔
ایک کاروباری شخص کو نقاب پوش افراد نے ہتھوڑوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر میں گھس کر دھمکی دی کہ اگر انھوں نے کرپٹو کرنسی کی شکل میں لاکھوں پاؤنڈ منتقل نہ کیے تو وہ ان کی حاملہ بیوی کو قتل کر دیں گے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے، اس جوڑے، جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتا، نے اس حملے کو ’ہولناک‘ قرار دیا اور کہا کہ انھیں اپنے پیدا ہونے والے بچے کی جان کے بارے میں خوف تھا۔
متاثرہ شخص نے اپنی کرپٹو کرنسی کی سیونگز ان افراد کو منقتل کی جس کے بعد وہ ایک گاڑی میں فرار ہوئے، جس میں ایک ڈرائیور پہلے سے تیار بیٹھا ہوا تھا۔
کرائم سٹاپرز نے اس حملے کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 10,000 پاؤنڈ کا انعام مقرر کیا ہے۔ یہ حملہ گھر کے سکیورٹی کیمروں میں ریکارڈ ہوا تھا اور پولیس اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی پرتشدد ڈکیتیاں، جنھیں ’رینچ اٹیک‘ کہا جاتا ہے، بڑھتی جا رہی ہیں اور ان واقعات میں کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جیسے جیسے کرپٹو کرنسیوں کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ، فرانس، امریکہ، برازیل، تھائی لینڈ اور فلپائن میں ڈیجیٹل اثاثوں سے منسلک ایسی پُرتشدد ڈکیتیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رقم منتقل ہونے کے بعد اسے واپس حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔
